میری آخری جنگ: افغانستان، سوویت افواج کے انخلا کے بعد

$35.00

Title Translation:  Meri Akhri Jaag (My Last Battle: Afghanistan, after the withdrawal of Soviet forces)

Author: Mahmood Ahmodovich Gariyev – محموت احمدووچ گارییف
Translated By: Dr. Najmul-Saharbat – داکتر نجم السحربت
Binding: Hardback – قطع و نوع جلد سخت
Published Year: 2015 – سال چاپ
Pages: 128 – تعداد صفحات
Language: Urdu –  به زبان اردو

Product price
Additional options total:
Order total:

Quantity:

Description

میری آخری جنگ………
گزشتہ دنوں افغانستان میں سوویت فوج کے انخلاء کے بعد ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کے دفاعی مشیر کی حیثیت سے تعینات سوویت جنرل محموت احمد وچ گارییف کی تصنیف کا اردو ترجمہ, میری آخری جنگ, پڑھنے کا اتفاق ہوا.اس کا ترجمہ ڈاکٹر نجم السحر بٹ نے کیا ہے اور اسکا اہتمام فرخ سہیل گوئنڈی صاحب نے کیا. اس مختصر اور جامع تحریر کا مطالعہ کرنے کے بعد بلا شبہ کہا جا سکتا ہے کہ جمہوری پبلیکیشنز کی یہ کاوش بہت عمدہ ہے .اسکی چند وجوہات ہیں جنہیں مختصرًا بیان کرنا ضروری ہے.اول یہ کہ پاکستان میں یہ عمومی رائے پائی جاتی ہے کہ افغانستان میں سوویت یونین محض ایک قا بض طاقت کے طور پہ داخل ہوا. جبکہ1978 کے ژور انقلاب کو فروموش کر دیا جاتا ہے جو داؤد حکومت کی مقامی اشتراکی قوتوں کے خلاف انتقامی کاروائی کے نتیجے میں وقوع پزیر ہوا.دوئم اس کتاب میں افغان سوشلسٹ حکومت پر بھی تنقیدی تجزئیہ موجود ہے کہ کیسے افغانستان کے غیر مربوط سیاسی وسماجی ڈھانچے کو فراموش کر کے بزورِ طاقت انقلاب کو رائج کرنے کی کوشش کی گئی ,جو اسے ایک غیر جانبدار تجزئیہ ثابت کرتا ہے.سوئم یہ عسکری حوالے سے بھی ایک معقول تجزئیہ ہے کہ ایک لاکھ سوویت افواج تو قابض تہیں مگر آج وہاں ایک لاکھ سے زائد مقیم نیٹو افواج جو ڈیڑھ عشرے سے برسرِ پیکار ہیں, انہیں ہم کس نام سے مو سوم کریں گے. چہارم,ہمیں بطورِ پاکستانی اپنے ماضی کا محا سبہ کرنا ہے تا کہ ہم اپنی غلطیوں کو مستقبل میں نا دہرائیں جسکے لئے اس تحریر کا مطالعہ اہمیت کا حامل ہے.
افغان جہاد کے تین اتحادی, پاکستان, امریکہ اور افغان سیاسی گروہ آج کن حالات سے دوچار ہیں.پاکستان کا سماجی ڈھانچہ ہی اس جنگ نے بدل دیا اور ہم ابھی بھی دہشت گردی کی جنگ میں گھٹنوں تک دھنسے ہوئے ہیں. امریکہ بہادر افغانستان سے با عزت واپسی کی راہ تلاش کر رہا ہے. افغان جہاد کے سیاسی چہرے اور گروہ اپنا وجود بھی آج کھو بیٹھیں ہیں اور سب سے زیادہ نقصان خود افغان قوم کا ہوا جو ماضی میں تو منتشر تھی مگر آج تو اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی یے. یہ کیسی عجیب جنگ تھی جسے لڑنے والے سبھی شکست کھا گئے اور نقصان اٹھایا مگر فتح کسی کی نا ہو سکی.ہمیں thesis اور antithesis کے بعد synthesis تک پہنچنا ہے جسکے لئے اس کتاب کا مطالعہ مفید ثابت ہوگا.

Additional information

Weight 0.31 kg
Dimensions 22.1 × 14.6 × 1.4 cm